دیر میں دشت میں مچلتا ہے۔
Updated: Oct 8, 2022
By Mohammad Akram
دیر میں دشت میں مچلتا ہے۔
من کہاں اب کہیں بہلتا ہے۔
میرؔ کی روح خوش بہت ہوگی۔
درد جب بھی سخن میں ڈھلتا ہے۔
یہ! لہو آنکھ سے بہا کس کے۔
چشمۂ غم کہاں اُبلتا ہے۔
صحنِ گُل اِس کلی پہ نازاں ہے۔
اس لئے باغ باں کو کَھلتا ہے۔
کپکپی سی بدن میں اُٹھتی ہے۔
یہ کس ارماں کا دم نکلتا ہے۔
چشم گِریاں سے خوں ٹپکتا ہے۔
جب بھی یادوں کا دیپ جلتا ہے۔
تِیرگی دُور تک، مگر اکرمؔ۔
جو پرندہ سفر کو چلتا ہے۔
By Mohammad Akram

Comments