تازہ گُل
By Mohammad Akram
ایک تازہ گل کھِلا ہے شاخ پر
زینتِ گلشن کا سہرا اوڑھ کر
پرتوِ خورشید بادل چیرتا
قطرئے شبنم کو چمکاتا ہوا
مشک بُو ہر سمت پھیلاتے ہوئے
جھومتے ہیں آب جُو جاتے ہوئے
ہے کئیں چشمیں رواں اس باغ میں
بولتی ہے تتلیاں اس باغ میں
یہ تبسم سے بھرے لب دل نشیں
شوخ نظریں چاہتی کیا کچھ نہیں۔؟
By Mohammad Akram

Comments