آئینہ کس لئے پریشاں ہے۔
Updated: Oct 8, 2022
By Mohammad Akram
آئینہ کس لئے پریشاں ہے۔
دیکھ کر کس کا عکس حیراں ہے۔
زلف سے خَم نکالنے ہے اُنہیں۔
دیکھیے کتنے ہاتھ کوشاں ہے۔
ایک مہتاب ہے مرے گھر میں۔
اور گھر نور سے فروزاں ہے۔
چل دیے چھوڑ کر چمن بُلبل۔
آمدِ موسمِ بہاراں ہے۔
حیف سد حیف اُس جواں خوں پر۔
جو غلامی پہ اپنی نازاں ہے۔
درد سینے میں کیوں نہ گھر کر لیں۔
کب سےگلشن میں عشق نالاں ہے۔
چاہتوں کے حسیں کِناروں پر۔
یاد ماضی ہے کوئی طوفاں ہے۔
ایک تیرا خیال دل میں ہے۔
دشت ہے خاک ہے بیاباں ہے۔
یہ اسیرِ مقامِ ہُو اکرمؔ۔
بے سبب آج کیوں پشیماں ہے۔
By Mohammad Akram

Comments