Ustaad
By Mohammad Akram
استاد
نظر کو بصارت زباں کو سخن۔
سمجھ بوجھ کو عقل ہاتھوں کو فن۔
جہاں سے ہوئی آشنائی ہمیں۔
جہالت حسد سے رہائی ہمیں۔
ہے کیا خُوب قدرت کی کاریگری۔
خرد میں جگائے وہ جوشِ جُنوں۔
سمائے شکستہ دلوں میں سُکوں۔
صداقت شجاعت سکھاتے ہوئے۔
تخیل میں ہلچل مچاتے ہوئے۔
سنور جائے بکھری ہوئی زندگی۔
بلندی پہ پہنچا کے لیتے ہیں دم۔
سِفالِ ذہانت انھیں سے ہے نم۔
روانی ندی میں دلوں میں قرار۔
ہے گلشن میں ان کی بدولت بہار۔
یہ ہر سمت پھیلی ہوئی روشنی۔
یہ ساون کی بارش میں کھِلتی زمیں۔
یہ شبنم کے قطروں میں کرنیں حسیں۔
گلوں میں نئے رنگ بھر جائیں گے۔
یہ پتھر کو نایاب کر جائیں گے۔
کمی حوصلوں میں نہ آئے کبھی۔
معلم ہوئے انبیاء و رسُل۔
سبھی زیر نگران مولائے کُل۔
ضیا بانٹتے ہیں چراغوں میں یہ۔
بسیرا کرے من کے باغوں میں یہ۔
لبھاتی ہے سب کو یہی سادگی۔
By Mohammad Akram

Comments