Raat ki Tanhaie
By Mohammad Akram
تازہ گُل
ایک تازہ گل کھِلا ہے شاخ پر
زینتِ گلشن کا سہرا اوڑھ کر
پرتوِ خورشید بادل چیرتا
قطرئے شبنم کو چمکاتا ہوا
مشک بُو ہر سمت پھیلاتے ہوئے
جھومتے ہیں آب جُو جاتے ہوئے
ہے کئیں چشمیں رواں اس باغ میں
بولتی ہے تتلیاں اس باغ میں
یہ تبسم سے بھرے لب دل نشیں
شوخ نظریں چاہتی کیا کچھ نہیں۔؟
نظم:- رات اور تنہائی
ہوئی نیند آنکھوں میں کاہے کوں طاری
یہ کس کی وجہ سے بڑھی بیقراری
فلک نے بکھیرے ہیں کیوں چاند تارے
یہ کس واسطے اپنا دامن پسارے
کوئی نور لے کر چمکتا ہے تنہا
نئی بھانپ لی ہے پرندوں نے منزل
ہواؤں میں ہونے لگی کوئی ہلچل
گھنے بادلوں نے ہمالہ کو گھیرا
کہیں روشنی نے اجالا بکھیرا
تو گر کارواں ہے تو کیوں ہے اکیلا ؟
مناظر جو دیوار و در نے دکھائے۔
دلِ بے نوا میں کچھ ایسے سمائے۔
کبھی مسکرائے کبھی رو پڑے ہم۔
سسکتے بلکتے نکلتا رہا دم۔
سکوں قلب مضطر کو کیونکر نہ آیا؟
خیالوں نے اوڑھا ترے پیرہن کو۔
کترنے لگا میرے ویران من کو۔
رگوں میں لہو ہجرتوں کا رواں ہے۔
یہ زخمِ محبت ابھی تک جواں ہے۔
ہوا نے یہ کس کی مہک کو بکھیرا ؟
وہ تخلیق آدم سے محشر کے در تک۔
زمیں سے فلک، لامکاں کے سفر تک۔
ہے واقف یہ احکامِ اسرار قل سے۔
کئے جن کے آگے ملائک نے سجدے۔
مگر امتحاں کو جہاں میں اتارا ؟
By Mohammad Akram

Comments