نشٔے میں ڈوبا نوجواں
By Ilsa Yousuf
گہرا ہے سمندر ڈوبے ہو تم جس میں
وفا نہ کی تمنے میرے خدا سے
یہ نشا جو تمہیں ابھی سکون دےگا
یہ زندگی چھین لےگا تمہاری تم سے
تو لکھنا چاہتا ہے سفر نامہ جس کو
آخر میں وہی منزل چھین لیگا تم سے
اے نشاآور انسان کس سے مدد مانگو گے
نشے نے چھین لیا خدا کا دربار تم سے
جو باپ کی ہوتی ہے تمنا بیٹے کا کندھا دینا
جو بیٹا ہی نا رہا تو کیا تمنا کو رکھنا
جو چھین لی تم نے ماں سے سکون کی دنیا
مثکل ہوگیا سلامت ماں کا چاند رکھنا
گل ہو تم اس جہاں کے
تمہیں تو ہے لوگوں کو خوشبو سے لٹانا
تم مان جاو کامیاب ہوجاو
میرا تو کام ہے تمہیں رہنما دینا
تم مانے نہیں یہ الگ بات ہے
ہمیں تو نصحیت کرتے ہوئے ہوگیا زمانہ
الٓسا
By Ilsa Yousuf

Comments