top of page

نشٔے میں ڈوبا نوجواں

Nov 12, 2022
1 min read

By Ilsa Yousuf





گہرا ہے سمندر ڈوبے ہو تم جس میں

وفا نہ کی تمنے میرے خدا سے

یہ نشا جو تمہیں ابھی سکون دےگا

یہ زندگی چھین لےگا تمہاری تم سے

تو لکھنا چاہتا ہے سفر نامہ جس کو

آخر میں وہی منزل چھین لیگا تم سے

اے نشاآور انسان کس سے مدد مانگو گے

نشے نے چھین لیا خدا کا دربار تم سے

جو باپ کی ہوتی ہے تمنا بیٹے کا کندھا دینا

جو بیٹا ہی نا رہا تو کیا تمنا کو رکھنا

جو چھین لی تم نے ماں سے سکون کی دنیا

مثکل ہوگیا سلامت ماں کا چاند رکھنا

گل ہو تم اس جہاں کے

تمہیں تو ہے لوگوں کو خوشبو سے لٹانا

تم مان جاو کامیاب ہوجاو

میرا تو کام ہے تمہیں رہنما دینا

تم مانے نہیں یہ الگ بات ہے

ہمیں تو نصحیت کرتے ہوئے ہوگیا زمانہ

الٓسا


By Ilsa Yousuf





Recent Posts

See All
Mirrored Truth

By Rufaida Manzoor I stood beside the silent lake, With eyes that felt no urge to break. My hair fell low in shadows deep, The waters...

 
 
 
My Antidote

By Anveeksha Reddy You fill my books with your ink, seeping into the pages bright and brilliant The words etched into the cracks of it,...

 
 
 
Avarice

By Anveeksha Reddy You tear my skin and pick on my bones I label it as gluttony for you Churning and shattering the remains of my...

 
 
 

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page