نشٔے سے دور
By Ilsa Yousuf
چلو اک بار پھر ہم
نشے سے دور جاتے ہیں
جو اندھیرے شہر میں
روشنی کا گھر بساتے ہیں
جو نکل نہ پائے حصار سے کبھی
اس بار حسار سے الودا کرتے ہیں
جو بہہ گئی آنسوں بے مقصد ہمارے
اب ان آنسووں کو موتی برابر کرتے ہیں
مقصد جو بھول گئے عمر نادانی میں
اب پھر مقصد پہ کام شروع کرتے ہیں
جو بدلے ہم نے کئی راستے اب تک
اب منزل کو دیکھ کر صفر طع کرتے ہیں
الٓسا
By Ilsa Yousuf

Comments