مجھے یاد نہیں
By Ilsa Yousuf
تھا کوئی خواب مجھے یاد نہیں
تھا کوئی جواب مجھے یاد نہیں
میں جب بھی گیت گاتا تھا
آتا تھا کوئی مہتاب مجھے یاد نہیں
جو بہا گیا کئی اپنے میرے
تھا کوئی سیلاب مجھے یاد نہیں
جسکی مہک ابھی تک مجھے ستاتی ہیں
تھا وہ کس چمن کا گلاب مجھے یاد نہیں
وہ ہجر کی رات وہ عجیب سے جواب
تھا وہ کیسا عذاب مجھے یاد نہیں
آتی ہیں رفتا رفتا یاداشت وآپس
تھا کیا وہ منتخاب مجھے یاد نہیں
سنا ہیں مشہور تھے ہم بھی بہت
لیکن کیا تھا آلسا کا خطاب مجھے یاد نہیں
By Ilsa Yousuf

Comments