بیتے لمحے
By Ilsa Yousuf
لکھا جو خط ہمنے مختصر تھا
کہا جو لفظ ہمنے مختصر تھا
تھی جو آزمایٓشی زندگی کی
کیا جس نے صبر گوہر تھا
وہ جو حل ہوکے بھی مکمل نہیں
سنا ہیں بڈا ہی کوئی ستمگر تھا
جس کی کرتے تھے ہم بار بار وضاحت
وہ لمس نہیں پیکر تھا
کچھ نشاں جن پے پوری عمر چل پڑے
وہ نشاں نہیں قدمے خضر تھا
دھندلی سی زندگی میں ٹکرایا جس سے سر
وہی تو مقصدے زندگی اُس قا در تھا
اور پھر رہا کیا ؟کیا خبر
وہی تو اِلسا کا آخری سحر تھا
By Ilsa Yousuf

Comments