اپنی تلاش
By Ilsa Yousuf
نکلا جو ڈھونڑنے خود کو کبھی
سفر میں آئی دشواریاں کئی
یہ نہیں کہ تم سے ملا ہوں میں
ملال تو یہ کہ خود سے نہ مل سکھاکھبی
جو محفل شریعت میں کبھی
جو میخانے میں ملا کھبی
خود سے تھا جدا بہت
خود سے نہ مل سکھا کبھی
دل سے جاکے روح ہوتی ہے
یہ راستآیہ راز نہ جان سکھا کبھی
جو میں کبھی خود میں سما گیا
جو میں خود خود سے ملا کبھی
یہ جو جمال روح تھی میری
خوبصورت ہے پتہ کہاں تھا کبھی
خدا ملا اس سفر میں مجھے
جسے نا امید میں پانے کی امید نہ تھی کبھی
الٓسا
By Ilsa Yousuf

Comments