آرزو ئے ناصبور
By Ilsa Yousuf
قفس میں ہوتا تو مشہور نہیں ہوتا
ذرا سا خاشموش ہوتا تو مشہور نہیں ہوتا
اگر رکھا ہوتا ماذی آنکھوں کے سامنے
تو شاید میں اتنا مغرور نہیں ہوتا
اگر چلا ہوتا زمانے کے ساتھ میں بھی
تو میں آج اس قدر بہ دستور نہیں ہوتا
وہ جو چاہا میں نے مجھے مل جاتا
پھر مجھے خود سے ملنے کا فطور نہیں ہوتا
اسی لیے اگر پروانہ نہیں جلتا
تو شماء میں وہ نور نہیں ہوتا
اگر کرتی گٕلے مجھسے یہ زندگی
تو مجھے جینے کا قرض منظور نہیں ہوتا
جو مہتاب ملا,جو خیال پرواز ملا سا
کیا ہوتا الٓسا اگر آرزو ئے ناصبور نہیں ہوتا
By Ilsa Yousuf

Comments