Gazal
By Waheed
میری مشکلوں کا اعتبار انہیں کیوں نہیں آتا
خود سےہی برسر پیکار ہوں,نظر کیوں نہیں آتا
وقت دراز سے مضطرب ہے تو، اے دل مسلسل
شنوائی کا کوئی مقام ,گزر، کیوں نہیں آتا
غیروں سے شناسائی کی کوئی شکایت نہیں ہمیں
حالت پہ ہماری آخر رحم کیوں نہیں آتا
گردش ایّام میں وہ کھوئے ہیں، بجا ہے لیکن
مدّت طویل سے ہمارا پُرساں کیوں نہیں آتا
کتنی شدّت سے آزاد ہیں وہ از خیال من
بے اعتنائی،نا آشنائی،تغافل،ہمیں کیوں نہیں آتا
( واحد)
By Waheed

Comments