وہ منفرد آنکھیں
- Hashtag Kalakar
- Dec 16, 2025
- 1 min read
By Dr Ayesha Noorain A
ہاں، وہی آنکھیں —
جو سوکھ چکی ہیں،
جن میں نظر نہ آنے والی دیواریں کھڑی ہیں۔
مجال ہے،
جو ایک قطرہ بھی اُن دیواروں کو پار کر جائے۔
کبھی دیکھا ہے اُن آنکھوں کو؟
جو آنسوؤں سے بھر تو جاتی ہیں،
مگر اردگرد کی دیواریں اُن آنسوؤں کو گرنے نہیں دیتیں —
اِس ڈر سے کہ کوئی اُنہیں کمزور نہ سمجھ بیٹھے،
کسی کے ہاتھ کے لمس کی آدھی نہ ہو جائیں،
کبھی اُس خوف سے کہ جس کو احساس دلانا چاہو،
وہ بے حس نہ ہو جائے۔
اور پھر وہ پانی یوں سوکھ جاتا ہے،
جیسے صدیوں سے پیاسا پڑا ریگستان۔
نہ جانے وہ آنسو کہاں چھپ جاتے ہیں —
آنکھیں واپس پی لیتی ہیں،
یا دل میں ضبط ہو جاتے ہیں۔
وہ آنکھیں،
ہاں، وہی آنکھیں —
جو اپنا نور کھو بیٹھی ہیں۔
کبھی اُنہیں کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرنا۔
یہ سمندر سے زیادہ گہری ہیں،
اور سوچ سے بڑھ کر شاطر۔
سمندر کی گہرائی ناپ لوگے،
مگر اِن کی گہرائی کا تصور بھی نہ کر پاؤ گے۔
اتنی شاطر ہیں —
کہ حال پوچھنے والے کو گمراہ بھی کر دیں گی،
اور اُسے خبر بھی نہ ہوگی
کہ یہ کس کرب سے گزری ہیں۔
وہ آنکھیں،
ہاں، وہی آنکھیں —
جو اوروں کی طرح دل کا حال نہیں ظاہر کرتیں،
بلکہ ہر احساس کو ڈھانپ لیتی ہیں۔
تو کیا دیکھا ہے کبھی اُن آنکھوں کو کہیں؟
مختلف سی، وہ منفرد آنکھیں۔۔۔
By Dr Ayesha Noorain A

Comments