top of page

وہ منفرد آنکھیں

By Dr Ayesha Noorain A



ہاں، وہی آنکھیں —

جو سوکھ چکی ہیں،

جن میں نظر نہ آنے والی دیواریں کھڑی ہیں۔


مجال ہے،

جو ایک قطرہ بھی اُن دیواروں کو پار کر جائے۔


کبھی دیکھا ہے اُن آنکھوں کو؟

جو آنسوؤں سے بھر تو جاتی ہیں،

مگر اردگرد کی دیواریں اُن آنسوؤں کو گرنے نہیں دیتیں —

اِس ڈر سے کہ کوئی اُنہیں کمزور نہ سمجھ بیٹھے،

کسی کے ہاتھ کے لمس کی آدھی نہ ہو جائیں،

کبھی اُس خوف سے کہ جس کو احساس دلانا چاہو،

وہ بے حس نہ ہو جائے۔


اور پھر وہ پانی یوں سوکھ جاتا ہے،

جیسے صدیوں سے پیاسا پڑا ریگستان۔


نہ جانے وہ آنسو کہاں چھپ جاتے ہیں —

آنکھیں واپس پی لیتی ہیں،

یا دل میں ضبط ہو جاتے ہیں۔


وہ آنکھیں،

ہاں، وہی آنکھیں —

جو اپنا نور کھو بیٹھی ہیں۔


کبھی اُنہیں کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرنا۔

یہ سمندر سے زیادہ گہری ہیں،

اور سوچ سے بڑھ کر شاطر۔


سمندر کی گہرائی ناپ لوگے،

مگر اِن کی گہرائی کا تصور بھی نہ کر پاؤ گے۔


اتنی شاطر ہیں —

کہ حال پوچھنے والے کو گمراہ بھی کر دیں گی،

اور اُسے خبر بھی نہ ہوگی

کہ یہ کس کرب سے گزری ہیں۔


وہ آنکھیں،

ہاں، وہی آنکھیں —

جو اوروں کی طرح دل کا حال نہیں ظاہر کرتیں،

بلکہ ہر احساس کو ڈھانپ لیتی ہیں۔


تو کیا دیکھا ہے کبھی اُن آنکھوں کو کہیں؟

مختلف سی، وہ منفرد آنکھیں۔۔۔


By Dr Ayesha Noorain A

Recent Posts

See All
Dumb or In Love

By Kavya Mehulkumar Mehta are poets dumb — or just in love? to the world, they may seem dumb, but for them, love is inevitable. poems are reminders of love that can’t be forgotten, shan’t be forgotten

 
 
 
A Future So Azure

By Inayah Fathima Faeez Tomorrow looms unsure, muffled by the deep Thumbs twiddling, barriers never-ending, failure and nothing to reap At the shore lie the choices, imposing, leading to journeys impo

 
 
 
Letting Go In Layers

By Inayah Fathima Faeez Some part of us is cold and shrivelled, In a body of seemingly endless depth. Some part of us is heavy and dishevelled, Misery filling an unending breadth.  Some part of us is

 
 
 

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page