سکون کی تلاش اور زندگی کی تکمیل
- Hashtag Kalakar
- Dec 2
- 2 min read
By Shaikh Aafreen
چاہتوں کا صلہ زندگی کی میراث تونہیں، ضروری تھی نہیں کے ہماری نینیّتی اُبھر کے لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کریں،
انہیں آپ سے محبت یا آپ کی ستائش کا پابند کریں۔ پھر بھی انسان انسانی واہ وائی کی بھوک اور پیاس میں خود کو کیوں تھکائیں
ہوئے ہیں؟ انسان کا جسم بھلے پابندیوں کے پنجرے میں پیدا ہوا مگر اس کی ذہن سازی، اُسکی خواہشوں کا معیار ہر حدود کو پار کرنے کی ان تھک کوشش میں جڑا ہوا ہے۔ کچھ انسان یے مہارت صرف دوسروں کی دین یا دوسروں پر فرض سمجھتے ہیں، کچھ فقط خود کو اس معیار پر پرکھتے ہے اور اپنی زندگی کو اس محور پے ٹکانے کی جدوجهد میں لگے رہتے ہے۔ کچھ جانتے ہیں کی ہم، مراد کے انسان خطا کا پتلا ہے، جتنا وہ خطا کا پتلا ہے اتنا ہی توبہ کی مورت بھی ہے، جو اس بات کو جان لیتے ہیں کی کمال حاصل کرنا، بےعیب ہونا (پرفکشن) انسان کے بس کی بات ہی نہیں ہے اور نا ہی ہمیں بےجا اخیار (اوتھوریٹی) کا تاج نوازا گیا ہے جس کی بدولت ہم کسی اور شخص سے فرشتے سی صفت کا مطالبہ کریں۔ منافقت یہ ہے کی ہم دوسروں کے لیے جو مانگیں رکھتے ہے ان پر ہم نے خود قابلیت حاصل نہیں کی ہے اور کچھ مواقع ایسے بھی ہے جہاں ہم اپنی مانگوں کی تلاش تک نہیں کی ہوتی، اور یہ اخیر طبقے کے لوگ ان باتوں کو جان لیتے ہیں، یہ دونوں پیالوں کا پانی چکھ کے اب ان سے دوری اختیار کرنے میں اطمینان پاتے ہے۔ ذہنی، جسمانی، روحانی یہ پھر عقلی ہر پہلو سے سکون انکی روحوں کو سرشار کیے ہوتا
ہے۔
By Shaikh Aafreen

Wow
Is urdu that beautiful for real or is it because of her?😭
Aspiring to become the last kind
To know so much is also a kind of sufferinsufferin:-)
Wow ! Even your urdu writting are good 😄