دورِ زندگی کا آخری موڑ ~ شامِ حیات
- Hashtag Kalakar
- Dec 16, 2025
- 3 min read
By Dr. Ayesha Noorain A
دورِ زندگی کا آخری موڑ ~ شامِ حیات
دورِ زندگی کا ایک وقت وہ تھا، جو گزر چکا —
اور ایک یہ ہے، جو ابھی چل رہا ہے۔
وہ وقت، جو اب یادوں میں کہیں زندہ ہے،
اور ایک یہ، جو اسے یاد کر کے جی رہا ہے...
تب لگتا تھا کہ سانسیں کم پڑ جائیں گی —
دنیا فتح کرتے کرتے۔
اب لمحہ بہ لمحہ سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یوں بلندی سے چلا کرتے تھے جس زمین پر،
اب اسی زمین پر نظریں جمائے چلتے ہیں —
ٹھوکر کے ڈر سے۔
دور کھڑے لوگوں کی گپ شپ سننے والے وہ کان،
آج نہیں سن پا رہے —
وہ نزدیک سے کیے گئے پیاروں کا سلام بھی۔
جو سن بھی لیں کبھی کچھ،
تو آدھی بات کی وضاحت پر میرے جوان بچے
کبھی ہنس پڑتے ہیں، تو کبھی چڑ جاتے ہیں...
پڑھایا کرتی تھی جنہیں میں زندگی کے سبق،
آج وہی مجھے چُپ کروا دیتے ہیں۔
کبھی ہم بھی ان ہی میں سے تھے،
خیر... کبھی وہ بھی اس موڑ سے گزریں گے۔
دورِ زندگی ہر موڑ پر نیا تجربہ دیتی ہے۔
وہ وقت ہمارا ہوا کرتا تھا — آج وقت ان کا ہے۔
طویل زندگی، لمبی عمر کی خواہش تو سب رکھتے ہیں،
مگر اس وقت، جب ہم نادان ہوتے ہیں —
ان خواہشوں کے ساتھ
تحفے میں ضعیفی بھی تو ملیگی۔
یہ کندھے، جو کبھی کتابوں کا،
کبھی اپنوں کی خوشیوں کا،
کبھی ذمہ داریوں کا بوجھ —
ہنسی خوشی اٹھا لیتے تھے،
آج، نہیں سنبھلتا ان سے اپنا آپ بھی۔
کہنے کو تب بھی بہت کچھ ہوتا تھا،
پر سننے کا وقت نہیں بچتا تھا۔
کہنے کو آج بھی بہت کچھ ہے،
وقت بھی بے حساب...
پر سننے والا کوئی نہیں۔
اس وقت ہم اپنے آپ میں اتنے الجھے رہتے تھے،
کہ کسی اور کے قصّے میں دل ہی نہیں لگتا تھا۔
آج نہ جانے کیوں، ہر کسی کے قصّوں، کہانیوں میں دل لگ جاتا ہے —
مگر ہم سے گپ شپ کرنے والے بھی تو کم ہو گئے ہیں۔
نہ جانے لوگ اپنی کہانیاں ادھوری کیوں چھوڑ دیتے ہیں...
دو پل کی خوشی کے بعد، چار لمحے تنہائی کے دے جاتے ہیں۔
ہاں، مانا — ہم تھوڑے مشورے دیتے دیتے ہیں،
اب کیا کریں...
جس سے ذرا سی توجہ حاصل ہو،
اسے اپنا سمجھ کے کہہ دیتے ہیں۔
اتنی عمر گزارنے کے بعد، ایک ہی بات کا افسوس لیے بیٹھے ہیں —
ہر چیز کو اہمیت دی، ہر اپنے کو اہمیت دی —
پر جب رب کی باری آتی تھی،
تو "پانچ منٹ" کہہ کر ٹال دیا کرتے تھے...
آج، جب ہر اپنے نے اپنی ترجیح بدل لی،
تو رب کو پہلے رکھ دیا ہے۔
کاش یہ ایسا پہلے سے ہوتا...
میرے رب کا مجھ پر سب سے زیادہ حق تھا۔
کاش میں نے پانچ منٹ کی بھی دیر نہ کی ہوتی۔
وہ عظیم بادشاہ آج بھی مجھے سنتا ہے...
خواب، خواہشیں، مقصد، ذمہ داریاں، دولت، عزت، شہرت، مصروفیت —
کیا رہ گیا ہے؟
کچھ بھی تو نہیں...
وہی دورِ زندگی کی باتیں دہراتے ہوئے —
کبھی نم آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے،
اور کبھی خاموشی سے دُوسری پیڑیوں کو دیکھتے ہوئے —
شامِ حیات کے چند بچے ہوئے لمحے گزار رہے ہیں...
مانا، ان میں تھوڑی تنہائی ہے —
پر اب رب سے میری دوستی میں کافی گہرائی ہے۔
By Dr. Ayesha Noorain A

Comments